سی ڈی اے میں جعلی دستاویزات پر بھرتیوں کا انکشاف، 58 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج
اسلام آباد کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں انتظامی شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے سنگین سوالات اس وقت کھڑے ہو گئے جب جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھرتیوں کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ادارے نے 58 ایسے ملازمین کی نشاندہی کی جنہوں نے نوکری حاصل کرنے کے لیے جعلی تعلیمی اسناد یا دیگر غلط معلومات فراہم کیں۔ اس واقعے نے نہ صرف سی ڈی اے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ سرکاری اداروں میں بھرتی کے نظام پر بھی کئی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض امیدواروں نے جعلی ڈگریاں، جعل سازی شدہ شناختی کاغذات اور غیر مستند تجرباتی سرٹیفکیٹس جمع کرائے تھے۔ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان تمام 58 ملازمین کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں، تحقیقاتی ٹیم نے بھرتی کے عمل میں موجود ممکنہ اندرونی معاونت کی چھان بین بھی شروع کر دی ہے۔
سی ڈی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارے میں شفافیت اور میرٹ کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ اس کے لیے تمام موجودہ ریکارڈ کی نئی جانچ پڑتال کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ مزید کسی فیک بھرتی یا دستاویزات کی غلطی کا پتہ چلایا جا سکے۔
اس واقعے نے عوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ جعلی بھرتیاں نہ صرف میرٹ کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عوامی وسائل کا غلط استعمال بھی تصور ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سخت کارروائی اور مستقل نگرانی ہی اس طرح کے واقعات کو روک سکتی ہے۔
