امریکی سیاسی و سکیورٹی حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب ساؤتھ ڈکوٹا کی گورنر کرسٹی نوئم نے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل گارڈ پر حملے میں ملوث افغان مشتبہ شخص امریکا پہنچنے کے بعد شدت پسندانہ نظریات کا شکار ہوا۔ یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا جس نے امریکی سکیورٹی اداروں کو داخلی انتہا پسندی اور مہاجرین کی سکریننگ پالیسیوں کے حوالے سے نئے سوالات پر مجبور کر دیا ہے۔
گورنر نوئم کے مطابق، ملزم نے امریکہ آنے کے بعد آن لائن نیٹ ورکس اور مخصوص گروہوں کے زیرِ اثر آکر اپنے خیالات میں شدت پسندی پیدا کی، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض افراد امریکہ میں داخل ہونے کے بعد خطرناک نظریات اپنا سکتے ہیں، اس لیے سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنا ہوگا۔
امریکی حکام اس واقعے کی مکمل تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ملزم کے ممکنہ روابط، محرکات اور منصوبہ بندی کے پہلوؤں کا پتا لگایا جا سکے۔ تفتیشی ٹیم یہ بھی جائزہ لے رہی ہے کہ کیا مشتبہ شخص نے یہ کارروائی تنہا کی یا اسے کسی نیٹ ورک کی حمایت حاصل تھی۔
اس واقعے نے امریکی امیگریشن پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اُن افغان شہریوں کے حوالے سے جو گزشتہ چند برسوں میں انسانی بنیادوں پر امریکا منتقل کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق بہتر اسکریننگ اور بعد از آمد نگرانی ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب مہاجرین کے حامی گروہوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کے اعمال پوری کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ کیس امریکا میں داخلی شدت پسندی، آن لائن ریڈیکلائزیشن اور مہاجرین کی سکیورٹی جانچ کے حوالے سے مستقبل کی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ڈس کلیمر
