کراچی:
انٹرنیشنل کاٹن ایسوسی ایشن (آئی سی اے) نے پاکستان کی 84 ٹیکسٹائل ملوں کو ڈیفالٹر قرار دے دیا۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسن الحق نے دی سٹار ایشیا ٹریبیون کو بتایا کہ انٹرنیشنل کاٹن ایسوسی ایشن (آئی سی اے) نے یہ فیصلہ پاکستان ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے اپنے پروکیورنگ معاہدوں کو پورا کرنے میں ناکامی پر لیا۔ اس پیش رفت کے بعد ڈیفالٹر ملز دنیا کے کسی بھی حصے سے روئی درآمد نہیں کر سکیں گی۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان نے نومبر 2024 کے آخر تک 5.2 ملین روئی کی گانٹھوں کی پیداوار کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران گانٹھوں کی پیداوار سے 33 فیصد کم تھی۔ کم پیداوار کے پیش نظر مقامی مارکیٹ میں روئی اور گانٹھوں کے نرخ بڑھنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ توقع کے برعکس قیمتیں گر گئیں کیونکہ ٹیکسٹائل ملوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہونے کے بعد ٹیکسٹائل ملوں نے بین الاقوامی مارکیٹ سے روئی اور دھاگے کی درآمد کو ترجیح دی۔
کپاس اور گانٹھوں کی قیمتوں میں کمی جنرز اور کاشتکاروں میں تشویش کا باعث ہے جس سے ملک میں کپاس کی پیداوار میں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے۔
احسن الحق نے حکومت کو مشورہ دیا کہ کپاس اور دھاگے کی خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس واپس لیا جائے تاکہ مقامی کاٹن انڈسٹری کو سپورٹ کیا جا سکے اور درآمدی شکل میں زرمبادلہ کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
