ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مستردکردی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کے روز کہا کہ اس منصوبے کے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہیں، آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کو اپنے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی بنیاد پر کرنا چاہیے اور اس میں دیگر طاقتوں کو شامل نہیں ہونا چاہیے۔گزشتہ روز خلیجی ممالک نے عمانی منصوبے کی حمایت کی تھی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ اس اہم آبی راستے کے استعمال پر رضاکارانہ فیس وصول کی جائے تاکہ جنگ کے باعث تجارت میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور سعودی عرب عمان پر ’غیر حقیقت پسندانہ منصوبے‘ قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے داخلی راستے اور خارجی راستے کے ایک حصے پر ایران کا کنٹرول ہونا ضروری ہے۔عہدیدار نے کہا کہ ایران عمان کو ایک قریبی اور اہم ہمسایہ اور ثالث کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان 50، 50 فیصد کنٹرول کا ماڈل ایران کے مفادات کے مطابق نہیں۔عہدیدار کے مطابق عمان کو آبنائے ہرمز کے اس حصے کی نگرانی کرنی چاہیے جو اس کے زیرِ اختیار آتا ہے۔عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے، جو عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتے ہیں، جہاز رانی کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
