اسرائیل کو مبینہ طور پر ’خاموشی‘ سے نئی آبدوز آئی این ایس ڈریکون فراہم کر دی گئی ہے، جسے خطے میں اسرائیلی بحری صلاحیتوں میں اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو آئی این ایس ڈریکون وصول ہوئی ہے جبکہ وصولی کی تقریب معمول کی تشہیر کے بغیر انجام دی گئی۔آئی این ایس ڈریکون آبدوز ڈاکار کلاس سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ جرمنی کی تیار کردہ ہیں۔یہ آبدوزیں جرمنی کی کمپنی تھائیسنکرپ میرین سسٹمز تیار کرتی ہے۔ انہیں اسرائیلی بحریہ کی جدید ترین آبدوزوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ طویل فاصلے تک خفیہ کارروائیاں، انٹیلی جنس جمع کرنا اور سمندر میں طویل عرصے تک رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ڈولفن کلاس آبدوزیں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اسرائیل نے اس کی باضابطہ تصدیق کبھی نہیں کی۔
