تہران ایرانی فوج نے دفاعی حکمت عملی ترک کر کے جارحانہ کارروائیوں پر غور شروع کر دیا ہے، پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ہماری کارروائیاں اب تک دفاعی رہی ہیں لیکن ممکن ہے جارحانہ بھی ہو جائیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو میں کہا کہ جنگ کا آغاز دشمن نے کیا تھا اور ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں، تاہم ممکن ہے کہ مستقبل میں ان کی نوعیت جارحانہ بھی ہو جائے۔انھوں نے کہا حکم دیے جانے پر مسلح افواج اپنی حکمت عملی تبدیل کریں گی اور ملک کے دفاع، سلامتی کے تحفظ اور دشمن کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے ضروری وقت پر ہر قدم اٹھایا جائے گا۔میجر جنرل ید اللہ جوانی نے کہا دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے خلاف اچانک کارروائیاں نہیں کر سکتا، ایسا کرنے پر اسٹریٹجک نوعیت کے حیران کن اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا مسلح افواج سپریم لیڈر کے دیے گئے احکامات کی بنیاد پر ’’تبدیلی لانے والے طریقہ کار‘‘ اپنائیں گی۔انھوں نے کہا مسلح افواج نئے احکامات، نئی حکمت عملی پر عمل کریں گی، اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے جو بھی اقدام لازم ہو وہ انجام دیں گی، جب کوئی قوم جہاد کا حق ادا کر رہی ہے، اللہ تعالیٰ نصرت کے راستے کھول دیتا ہے، ایرانی قوم حقیقی معنوں میں مجاہد ہے، 47 سال سے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔میجر جنرل جوانی نے کہا فتح کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے خدا نے ہمارے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے، مستقبل انتہائی تابناک ہے، چوٹی تک پہنچنے کے لیے قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔دوسری طرف ایرانی آرمی چیف نے امریکی فوجیوں کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے، میجر جنرل امیر خاتمی نے ایک بیان میں کہا جو کوئی بھی امریکی جارح کو ہلاک یا گرفتار کرے گا، اسے 30 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا، نیا اسلحہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
