مسک نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک گفتگو کے دوران کہی، ان کا کہنا تھا کہ 2027 کے اختتام تک اے آئی ڈیجیٹل دنیا میں ہر کام سپرہیومن سطح پر کرنے کے قابل ہو سکتی ہے، ان کا یہ تبصرہ ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ کی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا۔اے آئی ماڈلز گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، آج کے جدید ماڈلز نہ صرف سوالات کے جواب دے سکتے ہیں بلکہ کمپیوٹر کوڈ لکھنے، فائلوں کا جائزہ لینے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، مسک کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے عرصے میں یہ نظام ان کاموں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔تاہم، مسک نے اپنی پیش گوئی میں ایک اہم وضاحت بھی کی، ان کے مطابق اے آئی کا ممکنہ ’’سپرہیومن‘‘ مرحلہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگا، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی فوری طور پر حقیقی دنیا میں ہر جسمانی کام انسان سے بہتر کرنے لگے گی۔راخ نے اس امکان پر بھی توجہ دلائی کہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس خودکار طور پر کمزور کمپیوٹر سسٹمز تلاش کرکے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، انٹرنیٹ کے نئے دور میں وہ نظام جو قابلِ ہیک ہوں، ان کے خودکار طور پر نشانہ بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آرٹیفیکٹری کی مذکورہ خامی خود کسی اے آئی ایجنٹ نے دریافت یا استعمال کی تھی۔مسک نے اسی بحث کے دوران گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ اپنی ایک پرانی گفتگو کا حوالہ بھی دیا، پیج تقریباً ایک دہائی قبل بار بار یہ پیش گوئی کرتے تھے کہ اے آئی ہیکنگ کے معاملے میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔اے آئی کے خودمختار رویے سے متعلق خدشات صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہے، حالیہ مہینوں میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے اے آئی ماڈلز کی جانچ کے دوران ایسے واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی نے حال ہی میں ایک سکیورٹی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کی داخلی جانچ کے دوران تقریباً 1200 اے آئی ایجنٹس نے آرٹیفیکٹری نامی اندرونی سروس کو ایک دوسرے سے رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے 70 ہزار سے زیادہ پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا، جبکہ تقریباً 700 ایجنٹس نے بعد میں ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز کو ہدف بنایا۔اسی طرح اینتھروپک اور میٹا نے بھی حالیہ عرصے میں اپنے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے دوران ایسے رویوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں کمپنیوں نے توقع سے ہٹ کر یا ’’روگ‘‘ رویہ قرار دیا۔
