ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے 24 ارب روپے کاروباری برادری کیلئے مختص

وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (EXIM Bank of Pakistan) کی جانب سے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے برآمدی انشورنس کوریج فراہم کرنے کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ 3 ارب روپے کا رسک پول بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس تک رسائی کو وسعت دیتا ہے، اس فیصلے سے کاروباری برادری کو برآمدات کا حجم بڑھانے میں سہولت ملے گی۔محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے یہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے، ملکی معیشت کو تقویت دینے کے لیے اصلاحات پر ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی ٹیم قابلِ تحسین ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ تنظیم نو اور اصلاحات کے بعد ای ڈی ایف کی قیادت نجی شعبے کے ماہرین کے سپرد کر دی گئی ہے، ای ڈی ایف کے پاس موجود تمام سرمایہ کاروباری برادری کی سہولت کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت پاکستان کے ملکی معیشت کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے کے عزم کے عکاس ہیں، ان اقدامات کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر سرمایہ کاری کا مرکز بنے گا، تمام اقدامات برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے عزم کی تکمیل کے لیے کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں وزیراعظم کو ای ڈی ایف کی تنظیم نو اور اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ای ڈی ایف کے پاس موجود 24 ارب روپے مکمل طور پر کاروباری برادری کی سہولت کے لیے سرمایہ کاری کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں، مزید انفراسٹرکچر کی مد میں کسی قسم کا خرچہ نہیں کیا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ای ڈی ایف میں ملکی معیشت کی ترقی اور کاروباری برادری کی سہولت کے لیے تحقیق، اسکلز ڈویلپمنٹ اور مسابقت میں اضافے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کی یورپی مارکیٹ تک رسائی کے لیے خصوصی مراعاتی تجارتی نظام (GSP Plus Status) میں توسیع کے حوالے سے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، ای ڈی ایف بورڈ کے چیئرمین عمر سعید اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

eleven + fifteen =