بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بھی نیچے آگئیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ آنے والے دنوں میں مختلف ممالک کی درآمدی لاگت اور مالیاتی منڈیوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں ایک ڈالر 13 سینٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت کم ہو کر 81 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل رہ گئی۔ اسی طرح عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر 48 سینٹ کی گراوٹ آئی، جس کے بعد برینٹ آئل 86 ڈالر 88 سینٹ فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی طلب میں سست روی اور رسد سے متعلق توقعات کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ سونے کی قیمت میں 51 ڈالر 60 سینٹ کی کمی کے بعد فی اونس قیمت 4 ہزار 25 ڈالر تک آ گئی۔ اسی طرح چاندی بھی سستی ہو گئی اور اس کی قیمت میں ایک ڈالر 17 سینٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد عالمی منڈی میں فی اونس چاندی 57 ڈالر 53 سینٹ میں فروخت ہونے لگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاروں کی بدلتی حکمت عملی اور معاشی اشاریوں کے باعث تیل اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو تیل درآمد کرنے والے ممالک کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ سرمایہ کار اب عالمی معاشی صورتحال، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور توانائی کی طلب سے متعلق آئندہ اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
