ہانگ کانگ میں پیش آنے والے خوفناک فائر حادثے سے زندہ بچ جانے والے ایک شخص نے اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہا ہےسٹا ر نیوز لائیو کہ “جب بھی مجھے ہیرو کہا جاتا ہے، میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔” ان کے مطابق لوگ انہیں بہادر سمجھتے ہیں، لیکن وہ اندر ہی اندر اس درد سے گزر رہے ہیں جسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔
اس شخص کا کہنا ہے کہ حادثے کے دوران جان بچ جانا ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں تھا، مگر اس واقعے نے ان کی زندگی کا ہر پہلو بدل کر رکھ دیا۔ وہ جسمانی طور پر تو اس آگ سے نکل آئے، مگر ذہنی اور جذباتی سطح پر آج بھی اس کے اثرات سے لڑ رہے ہیں۔
سروائیور کے مطابق ہیرو کہلانے سے پنہاں طور پر ایک دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے، کیونکہ لوگ ان سے غیر حقیقی توقعات باندھ لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “میں نے اپنی جان بچائی، مگر میں وہ سب کچھ کھو چکا ہوں جو میرے لیے قیمتی تھا۔ میں کوئی ہیرو نہیں، صرف حالات کا شکار ایک انسان ہوں۔”
ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے حادثات کے بعد جذباتی ٹروما ایک عام اور قدرتی ردعمل ہے۔ متاثرہ افراد اکثر لوگوں کی طرف سے دی جانے والی تعریف کو قبول کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی یادوں میں خوف، بے بسی، اور نقصان زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
ہانگ کانگ کے اس سروائیور کی کہانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ زندگی بچ جانا ہمیشہ آسان شکرگزاری نہیں ہوتا؛ بعض اوقات بظاہر محفوظ لوگ اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
