روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کا بھارت کے وزیرِاعظم نریندر موڈی سے ملاقات کے لیے دہلی کا دورہ بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ موجودہ عالمی حالات، یوکرین جنگ، توانائی کے بحران اور دفاعی معاہدوں کے تناظر میں اس دورے کی اہمیت دوگنی ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد تیل، دفاع اور جیو پولیٹکس کے حوالے سے نئی سمت طے کرنا ہے۔
پچھلے کچھ برسوں میں بھارت، روس سے ڈسکاؤنٹ پر بڑی مقدار میں خام تیل خرید رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ پوٹن کے دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ توانائی کے شعبے میں مزید مضبوط تعاون کی بنیاد رکھی جائے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے۔
دفاع کے شعبے میں بھی بھارت روس کا دیرینہ پارٹنر ہے۔ بھارت کی بڑی دفاعی خریداریوں میں روس اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس ملاقات کا ایک مقصد دفاعی ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار کے نئے منصوبوں پر بات چیت بھی ہے، تاکہ بھارت اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید خودکفیل ہو سکے۔
جیو پولیٹکس کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا اس وقت نئے طاقت ور بلاکس بنتے دیکھ رہی ہے۔ چین کا بڑھتا ہوا اثر، مغربی پابندیاں، اور ایشیا میں اسٹریٹجک مقابلہ — یہ سب عوامل بھارت اور روس دونوں کے لیے نئے مواقع اور چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
پوٹن کا یہ دورہ واضح کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بھارت کی اہمیت بڑھ رہی ہے، اور روس اس تعلق کو مزید گہرا کرنے کا خواہشمند ہے۔
