’نظام ڈھے چکا ہے‘: محسن نقوی کی نئے صوبوں کی تجویز کتنی قابلِ عمل اور فیصلہ کس نے کرنا ہے؟

اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب کرنے آئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ابتدائی کلمات تھے۔اس کے بعد پہلے تو انھوں نے یہ کہا کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)‘ اور ساتھ ہی بظاہر اس کے حل کے طور پر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دے دیا۔ان کے الفاظ تھے: ’انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت جب اپنا بجٹ بناتی ہے تو خسارے کا بناتی ہے، ’اس میں یہ بات کی جاتی ہے کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے، تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ اس کو ٹھیک کیا جائے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کا قرض ہر سال بڑھتا جا رہا ہے ’جب تک اس سسٹم کو ری۔سیٹ نہیں کریں گے‘ تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔وفاقی وزیر داخلہ نے تجویز دی کہ ’اس کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، چاہے وہ ایک دن بیٹھیں، ایک مہینہ بیٹھیں یا ایک سال بیٹھیں۔‘محسن نقوی کے مطابق پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ’صوبوں کے نئے یونٹس سے لے کر اپنے ملک کا ایک ایک مسئلہ بیٹھ کر حل کرنا پڑے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک کے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے، ’چاہے آپ جتنے مرضی سیمینار کر لیں یا جتنی مرضی تقریبات کر لیں۔‘خیال رہے محسن نقوی وفاقی وزیر بننے سے پہلے صحافی تھے، پھر ایک چینل کے مالک بنے اور گذشتہ تین سال میں وہ تیزی سے صحافت سے سیاست کی جانب آئے۔ پہلے پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ بنائے گئے، پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور اس کے بعد وزارت داخلہ کا قلمدان بھی انھی کے حصے میں آیا۔وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں محسن نقوی کے وزیر داخلہ بننے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’محسن نقوی کو آپ ہلکا نہ لیں، ان کی مہربانی ہے کہ وہ وزیر داخلہ پر ہی اکتفا کر رہے ہیں، ورنہ چاہیں تو وہ وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں۔‘تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محسن نقوی جیسے بارسوخ وزیر کو نئے صوبوں کا مشورہ ایک معاشی سمٹ میں سامنے رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ان کی جانب سے یہ مشورہ دیا جانا کتنا معنی خیز ہے؟تجزیہ کار سلمان غنی کا ماننا ہے کہ محسن نقوی کا صحافت اور سیاست میں اہم کردار ہے ’اس وقت یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پاکستان میں منتخب حکومت تو ہے لیکن لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔‘

اپنا تبصرہ لکھیں

four × 1 =