ایم کیو ایم کے گروہوں میں مسلح تصادم، بہادرآباد مرکز کو تالے لگا دیے گئے

ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادرآباد میں بھی تالے لگ گئے۔پارٹی کے مرکزی رہنماؤں خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال گروپ میں جھگڑے اور کارکنوں میں مسلح تصادم کے بعد بہادرآباد مرکز بھی بند کر دیا گیا۔بہادرآباد مرکز پر خالد مقبول صدیقی کے گروپ کا جشن آزادی کی تقریبات پر اجلاس ہو رہا تھا کہ اس دوران مصطفیٰ کمال گروپ کے لوگ انیس قائم خانی کی سربراہی میں اپنا اجلاس کرنے مرکز پہنچے۔انتظامیہ کے روکنے کی کوشش پر فائرنگ کی گئی اور تشدد ہوا۔ مصطفیٰ کمال گروپ کے دھکم پیل میں امین الحق کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔جھگڑا رابطہ کمیٹی کے کمرے میں ہوا۔ ایک دوسرے کو کرسیاں ماری گئیں ہنگامے کے دوران ڈی وی آر سسٹم کو نقصان پہنچایا گیا ، کچھ کارکنان ڈی وی آر سسٹم بھی ساتھ لے گئے۔لڑائی کے بعد بہادرآباد مرکز کو تالا لگادیا گیا۔ اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار موجود۔ ایم پی اے اعجاز الحق کا کہنا ہے انیس قائم خانی نےمجھےکمرے میں تھپڑمارے۔ ذاکرحسین کو ایم پی اے فرحان انصاری و دیگر نے تشدد کر کے زخمی کر دیا۔ کہا گیا کہ یہ لندن والے ہیں،انہیں مارو۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا طنز۔ کہا چلےتھےسندھ کوتقسیم کرنے مگر اپنے ہی گھر کو سنبھال نہ سکے جو دوسروں کو بانٹنے نکلے تھے، آج خود دھڑوں میں بٹ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں

12 − seven =