عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: عدالت کا فریقین کو عدالتی تقدس برقرار رکھنے کا حکم

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی جانب سے جاری تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ دوران سماعت فریقین اور وکلا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، تمام فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ عدالت کا تقدس برقرار رکھیں۔عدالت نے واضح کیا کہ اوپن کورٹ تک رسائی کا مطلب یہ نہیں کہ عدالتی کارروائی میں خلل ڈالا جائے۔ آئندہ کسی فریق کی جانب سے ایسی حرکت کی گئی تو عدالت ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 352 کے تحت پابندی عائد کرے گی۔تحریری حکم کے مطابق عظمیٰ بخاری کی جانب سے علی زاہد بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ملزمہ فلک جاوید کے وکیل علی اشفاق نے بھی عدالت میں اپنے دلائل پیش کیے۔عدالت نے شریک ملزم شہاب الدین پر فردِ جرم عائد کردی، جبکہ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے بھی اپنا بیان قلمبند کروایا۔عدالتی حکم کے مطابق عظمیٰ بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کیس میں شکایت کنندہ ہیں اور ان کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی۔ انہوں نے بیان ریکارڈ کرانے کے بعد فوری جرح کی استدعا بھی کی۔عظمیٰ بخاری نے عدالت سے کہا کہ صوبائی وزیر ہونے کے باعث ان کی ذمہ داریاں ہیں اور ملزمان کی جانب سے کیس کو طویل کرنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔تحریری حکم کے مطابق عظمیٰ بخاری نے خود کہا کہ ملزمہ فلک جاوید کمرہ عدالت میں موجود ہو، جبکہ فلک جاوید کے وکیل علی اشفاق نے بھی ملزمہ کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر اعتراض اٹھایا۔سماعت کے دوران فریقین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس پر عدالت نے تمام فریقین کو عدالتی نظم و ضبط اور تقدس برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ملزمان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ پہلی مرتبہ التوا کی درخواست کر رہے ہیں۔عدالت نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر جرح کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

اپنا تبصرہ لکھیں

ten + ten =