اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے، جبکہ اس حوالے سے آئینی طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر سٹار ایشیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں ملک میں نئے صوبے بنانے کی گنجائش موجود ہے۔کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے کی گنجائش کو آئین میں پہلے ہی رکھا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کسی بھی وقت نئے صوبے بن سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے لیے الیکشن کمیشن کا استعمال کیا جائے گا اور ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے گا۔جے یو آئی سینیٹر نے کہا کہ نئے صوبوں کی حد بندی اور حلقوں پر اعتراضات آئیں گے۔ مختلف قومیتیں کہیں اکٹھی اور کہیں الگ ہونا چاہیں گی۔کامران مرتضیٰ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکمران اتحاد دراصل ایک زور زبردستی کی شادی ہے۔ ججز تقرر کی منظوری صدر کا دستوری اختیار ہے، انہیں اپنا اختیار استعمال کرنے دیں۔ اگر صدر دستخط نہیں کرتے تو پھر عدالتوں کی مدد لینا پڑے گی۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ متنازع بیان سے متعلق کہا کہ مولانا نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔ ہم وہ لوگ نہیں جو ملک، دستور اور اداروں کے خلاف ہیں۔ فضل الرحمان کی پالیسی ہے کہ ملک اور ادارے آئین کے مطابق چلیں۔
