اسلام آباد: حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جاری پس پردہ رابطوں میں تیزی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ممکنہ احتجاج کے خدشے کے پیش نظر حکومت مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے اور پیپلز پارٹی کو احتجاج مؤخر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ یہ اتفاق کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اگست کے پہلے ہفتے طلب کیا جائے گا، تاہم بعد ازاں 11 اگست اور پھر 17 اگست کو اجلاس بلانے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ پیپلز پارٹی کے ممکنہ سخت ردعمل کے باعث اب اجلاس 31 اگست کو طلب کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کے شیڈول کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف سے بھی مشاورت کی گئی ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں میں ہونے والی پیش رفت جلد سامنے آنے کا امکان ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق سینیٹ کا اجلاس 18 اگست کو طلب کیے جانے کا امکان ہے جو 26 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس اجلاس میں اہم قانون سازی، قومی امور، مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس، حکومتی اور نجی ارکان کے بل، قراردادیں اور توجہ دلاؤ نوٹس زیر غور آئیں گے۔علاوہ ازیں، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بحث متوقع ہے جبکہ وفاقی وزراء مختلف وزارتوں سے متعلق ارکان کے سوالات کے جوابات اور اہم پالیسی بیانات بھی دیں گے۔ذرائع کے مطابق سینیٹ سیکریٹریٹ نے اس اجلاس کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
