’مریم نواز پنجاب کے بجٹ سے دوسرے علاقوں پر اخراجات کیسے کر سکتی ہیں؟‘پاکستان کے سوشل میڈیا پر اِس بحث نے اُس وقت جنم لیا جب تین روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 10 الیکٹرک بسوں کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ’گرین بسیں مظفرآباد پہنچ گئی ہیں۔‘وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے یہ اعلان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن میں ہونے والی پولنگ سے محض دو روز قبل کیا گیا تھا۔مریم نواز اور حکومت پنجاب کے ’ایکس‘ ہینڈلز سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے والی اِن گرین بسوں پر آویزاں بینرز پر مریم نواز کی تصویر کے ساتھ یہ عبارت درج تھی: ’وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے تحفہ۔‘یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب مریم نواز اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم چلانے کی غرض سے وہاں موجود تھے۔
وفاقی حکومت کے مشیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چونکہ کشمیر میں نگران حکومت کا نظام موجود نہیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی وزرا بھی انتخابی مہم کا حصہ بنے ہیں۔‘ان کے مطابق نئی قانون ساز اسمبلی کو اس قانون میں ترمیم پر غور کرنا چاہیے تاکہ برسرِ اقتدار جماعت انتخابی عمل پر اثرانداز نہ ہو سکے اور حکومتی عہدے دار انتخابی مہم میں شریک نہ ہوں۔تاہم اس صورتحال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل یا عوامی فنڈز سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور منصوبوں کا اعلان یا تقسیم کی جا سکتی ہے؟
