انڈیا کے دو ڈاکٹروں کو ’نشان قائد اعظم‘ دینے کی سفارش: جناح کی صحت کو ’ہندوستان کا سب سے زیادہ محفوظ راز‘ کیوں کہا گیا؟

پنگ پونگ کی گیند سے کچھ بڑے دو سیاہ دائروں کے گرد سفید حلقے اور پھیپھڑوں پر پھیلے سفید دھبوں کے جھرمٹ بتا رہے تھے کہ تپِ دق پھیپھڑوں کو کھا رہی ہے۔یہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے پھیپھڑوں کا ایکس رے تھا۔لیری کولنز اور ڈومینک لیپیئر نے اپنی کتاب ‘فریڈم ایٹ مڈنائٹ’ میں لکھا ہے کہ جون 1946 میں بمبئی کے فزیشن ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو نے اسی ایکسرے سے جانا کہ بیماری اس قدر بڑھ چکی ہے کہ جناح شاید صرف ایک یا دو برس ہی زندہ رہ سکیں۔مگر دونوں ڈاکٹروں نے جناح کے کہنے پر یہ راز خود ہی تک محدود رکھا۔پاکستان کے قیام کے 79 برس بعد، ان دونوں پارسی ڈاکٹروں کو ان کی ’اس خاموش مگر غیر معمولی خدمت کے اعتراف میں‘ اعلیٰ سول اعزاز، نشانِ قائدِاعظم، کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اور ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ ایک ایسا رازتھا جسے بہت سے مؤرخین بیسویں صدی کے اہم ترین اور تاریخ ساز رازوں میں شمار کرتے ہیں۔‘’اگر جناح کی بیماری کا علم ان کے سیاسی مخالفین اور برطانوی حکمرانوں کو ہو جاتا تو شاید تقسیمِ ہند مؤخر ہو جاتی، اور پاکستان کا قیام بھی خطرے میں پڑجاتا۔‘

اپنا تبصرہ لکھیں

16 − 5 =