راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں بیدردی سے قتل کی گئی حنا جاوید کے کیس میں پولیس نے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔45 سالہ حنا جاوید کی لاش جمعرات کی صبح لال کرتی کے اپارٹمنٹ کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ “دونوں ہاتھ پیچھے کپڑے سے بندھے ہوئے، منہ پر کپڑا دیا ہوا، اور گردن میں لپٹی تار اوپر نہانے والے شاور سے بندھی ہوئی تھی۔”واقعہ کی ایف آئی آر حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں درج ہوئی جس میں مقتولہ کے شوہر، سسر، اور گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق جب لاش برآمد ہوئی تو “اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا اور نیچے باتھ روم کے فرش پر بھی خون موجود تھا۔”ان کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ حنا جاوید کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق جب لاش برآمد ہوئی تو “اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا اور نیچے باتھ روم کے فرش پر بھی خون موجود تھا۔”ان کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ حنا جاوید کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی۔ جمعرات کی صبنے انہیں حنا کے سسر کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ ان کے گھر پہنچے تو حنا کی لاش باتھ روم میں پڑی تھی۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حنا جاوید کو ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم نے مبینہ طور پر اذیتیں دے کر قتل کیا۔ مقتولہ کو قتل سے قبل کوئی زہریلی چیز کھلائے جانے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔حنا جاوید کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ مقدمے کے مطابق مقتولہ کا شوہر اس سے پہلے بھی اس کی بہن کو اذیتیں دیتا رہا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر کی یہ دوسری شادی تھی جبکہ اس کی پہلی بیوی نے بھی مبینہ گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔پولیس کے مطابق مقتولہ حنا کا پوسٹ مارٹم کرایا جا چکا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔ جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔متاثرہ خاندان نے مقتولہ کے سسر اصغر علی کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کے مطابق اصغر علی مقدمے میں نامزد ہیں تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔
