عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیتن یاہو اسرائیلی عوام سے عبرانی زبان میں خطاب کرتے ہوئے اس بات پر فخر کرتے اور ہنستے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کے مفاد میں امریکا کو کس طرح اپنے مؤقف کا حامی بنایا، جبکہ انگریزی میں وہ عوامی سطح پر امریکی صدر کی قیادت کی تعریف کرتے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کو دھوکے میں رکھتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی حکام شہید ہوئے۔ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے کے مختلف حصوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تنازع مزید پھیل گیا۔
