سائنس دانوں نے ڈرلنگ کے بغیر، محض چند سیکنڈ کے اندر دانتوں میں کیڑا لگنے سے روکنے کا آسان طریقہ دریافت کر لیا ہے۔چند سیکنڈ میں دانت کے کیڑا لگے حصے پر لگایا جانے والا ایک محلول بہت سے کم عمر بچوں کو درد، انفیکشن اور سرجری سے بچا سکتا ہے۔ امریکا میں ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں معلوم ہوا کہ ’سلور ڈائی امائن فلورائیڈ‘ نے علاج کیے گئے دودھ کے دانتوں میں نصف سے زیادہ میں دانتوں کی خرابی کو روک دیا۔اس علاج کے لیے نہ دانت میں ڈرلنگ کی ضرورت ہوتی ہے، نہ انجیکشن کی اور نہ ہی بے ہوشی کی دوا دینے کی، تاہم اس سے دانت کا خراب حصہ مستقل طور پر سیاہ ہو جاتا ہے۔چوں کہ اسپتال کے ڈاکٹر عام طور پر دانتوں میں کیڑا لگنے کے بنیادی مسئلے کو ٹھیک نہیں کر سکتے، اس لیے کچھ بچے درد اور انفیکشن کا شکار رہتے ہیں، جب کہ بعض کو بالآخر مکمل بے ہوشی کی حالت میں سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سلور ڈائی امائن فلورائیڈ، جسے مختصراً SDF کہا جاتا ہے، کم خرچ اور کہیں زیادہ آسان متبادل فراہم کر سکتا ہے۔ ڈینٹسٹ اسے ایک چھوٹے اسپنج والے آلے کی مدد سے براہِ راست دانت کے کیڑا لگے حصے پر لگاتے ہیں اور ہر دانت کے لیے اس عمل میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں۔ یہ علاج دانت میں ڈرلنگ، انجیکشن یا بے ہوشی کی دوا کے بغیر خرابی کو روک سکتا ہے۔
اس علاج کے حق میں مضبوط شواہد
ایس ڈی ایف کئی دہائیوں سے متعدد ممالک میں کامیابی سے استعمال کیا جاطرہا ہے۔ امریکا میں ڈینٹسٹ اسے 2014 سے ’آف لیبل‘ طریقے سے استعمال کر رہے ہیں، جب اسے دانتوں کی حساسیت کم کرنے کے لیے ایک طبی آلے کے طور پر منظور کیا گیا تھاخون میں پلاسٹک کے ذرات : نئی تحقیق میں خوفناک انکشاف
تاہم، محققین نے ابھی تک امریکا میں بڑے پیمانے پر وہ کلینیکل آزمائشیں مکمل نہیں کی تھیں جو دانتوں میں کیڑا لگنے کے علاج کے طور پر SDF کی حفاظت اور مؤثریت ثابت کرنے کے لیے ضروری تھیں۔ اس ثبوت کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) ایس ڈی ایف کو دانتوں کی خرابی کے علاج کے لیے دوا کے طور پر منظور کر سکے۔اب یونیورسٹی آف مشیگن کی سربراہی میں ہونے والی ایک کلینیکل آزمائش نے یہ اعداد و شمار فراہم کردیے ہیں۔ JAMA Pediatrics میں شائع ہونے والی اس تیسرے مرحلے کی تحقیق میں 6 سال سے کم عمر 830 بچے شامل تھے۔ شرکا کو مشیگن، نیویارک اور آئیووا میں ڈینٹل کلینکس، بچوں کے طبی مراکز، ہیڈ اسٹارٹ اور ارلی ہیڈ اسٹارٹ پروگراموں کے ذریعے تحقیق میں شامل کیا گیا۔دوا نے دودھ کے بہت سے دانتوں میں خرابی روک د ی محققین نے پایا کہ 38 فی صد ایس ڈی ایف نے اس وقت دانتوں کی خرابی کو روک دیا جب اسے ہر 6 ماہ بعد لگایا گیا، اور اس طرح متاثرہ دودھ کے نصف سے زیادہ دانتوں میں خرابی رک گئی دانتوں میں کیڑا لگنے کے روایتی علاج میں عموماً دانت کے خراب حصے کو نکال کر وہاں فلنگ کی جاتی ہے۔ ایس ڈی ایف میں دانت کے کسی حصے کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی بہ جائے محلول کو براہِ راست دانت کے خراب حصے پر لگایا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر اور تحقیق کی سربراہ محقق مارگریٹا فونٹانا نے کہا ’’یہ ایک نہایت مؤثر اور محفوظ علاج ہے، حتیٰ کہ ایک سال تک کم عمر بچوں کے لیے بھی۔‘‘دانتوں میں کیڑا لگنا بچوں میں سب سے عام دائمی بیماری ہے اور امریکا میں 40 فی صد سے زیادہ بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ علاج نہ کیے جانے والے دانتوں میں کیڑا شدید درد، انفیکشن، سونے یا کھانے میں دشواری، اسکول سے چھٹیوں اور بار بار طبی معائنے کا سبب بن سکتا ہے۔فونٹانا نے کہا کہ یہ طریقہ علاج خاص طور پر بہت کم عمر بچوں، عمر رسیدہ افراد، نشوونما یا جسمانی معذوری رکھنے والے افراد اور دانتوں کے علاج سے شدید خوف رکھنے والے مریضوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔تاہم، اس علاج کا ایک نمایاں نقصان بھی ہے۔ چاندی دانت کے خراب حصے کو مستقل طور پر سیاہ کر دیتی ہے۔ یہ تحقیق 2018 میں شروع ہوئی تھی اور کووڈ-19 کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود جاری رہی۔اس ریسرچ اسٹڈی کے لیے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ادارے ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل اینڈ کرینیوفیشل ریسرچ‘ نے 12 ملین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی۔
