امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پراکسیز کی جانب سے درپیش خطرے کے سبب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکیہ سے روانگی کے وقت اپنا صدارتی طیارہ بدلنا پڑا تھا۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو ایک ایسے ممکنہ منصوبے کی اطلاع ملی تھی جس کے تحت صدر ٹرمپ کے زیرِ استعمال طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچے تھے تو انہوں نے قطر کی جانب سے دیے کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سفر کیا، تاہم واپسی پر انہیں پرانے ایئر فورس ون میں برطانیہ روانہ کیا گیا۔
ایران کی جانب سے لاحق خطرے کے سبب خفیہ سروس کے اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیہ سے روانگی کے موقع پر قطر کا دیا ہوا نیا ایئر فورس ون استعمال کرنے کی بجائے پرانا ایئر فورس ون استعمال کریں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے اس مشورے پر عمل نے قطر کی جانب سے تحفہ میں دیے گئے طیارے کے سیکیورٹی فیچرز پر سوال کھڑے کر دیے تھے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدرٹرمپ اور ایئر فورس ون دونوں ہی کو خطرات لاحق تھے۔
