عالمی سطح پر بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ ایران سے متعلق کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، جنہوں نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا۔اضافی مالی بوجھ کے حوالے سے یورپی یونین سب سے زیادہ متاثر رہی، جسے تقریباً 78 ارب ڈالر اضافی ادا کرنا پڑے، جبکہ چین 35 ارب ڈالر اور بھارت 22 ارب ڈالر کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔دوسری جانب بھارت کے خام تیل کے درآمدی بل میں بھی 56 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کا عکاس ہے۔
