معاشی استحکام کیلئے امن اور سیاسی استحکام اولین شرط ہے: احسن اقبال

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ امن، سیاسی استحکام اور پُرسکون ماحول کے بغیر بیرونی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی بے یقینی اور انتشار معیشت کو دوبارہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر عام آدمی اور نوجوانوں پر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سڑکوں پر لانے کے بجائے یونیورسٹیوں، کلاس رومز اور لیبارٹریوں میں جدید تعلیم، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل اسکلز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان نوجوانوں سے متعلق دو مختلف طرزِ سیاست ہیں: ایک احتجاج اور تصادم پر، جبکہ دوسرا تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی پر زور دیتا ہے۔احسن اقبال نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ تنازعات بات چیت اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیے جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اس وقت خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ملک کے دشمن دہشت گردی اور عدم استحکام کے ذریعے اس امن کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام منفی اور انتشار کی سیاست کے بجائے امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے خلاف ماضی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے اپنے مقدمات عدالتوں اور پارلیمنٹ میں لڑے۔پی ٹی آئی کے بانی کی گرفتاری کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ انہیں کسی سیاسی یا انتقامی حکم کے تحت نہیں بلکہ عدالت کی جانب سے ایک مقدمے میں سزا کے بعد حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا اور اسے سنگین مالی معاملہ قرار دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں

5 × 2 =