بھارت میں ناقابلِ تجدید توانائی میں شاندار ترقی ہو رہی ہے لیکن گرڈ کی کمزوری سے ہزاروں گیگاواٹ توانائی ضائع ہو رہی ہے۔ بھارت کی کل توانائی کی صلاحیت 552 گیگاواٹ ہے اور اس میں سے 300 گیگاواٹ ناقابلِ تجدید ذرائع سے آتی ہے۔ جولائی میں پہلی بار ناقابلِ تجدید توانائی نے پیک ڈیمانڈ کا نصف پورا کیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 300 گیگاواٹ ہفٹے توانائی ضائع ہوگئی۔ ٹرانسمیشن لائنوں میں کمزوری ہے۔ گجرات اور راجستھان میں سولر پروجیکٹ کنسنٹریٹ ہیں۔ بیٹری سٹوریج سسٹم کی ضرورت ہے۔ 2030 تک 500 گیگاواٹ کا ہدف ہے لیکن انفراسٹرکچر میں تاخیر ہے۔
