فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے پنجاب حکومت کے محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مشترکہ تعاون کا ایک فریم ورک قائم کیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کی مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے صنعت، تعلیمی اداروں، نوجوانوں، سماجی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ماحولیاتی مسائل سے متعلق آگاہی اور عملی اقدامات میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پنجاب حکومت کے محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کی سیکریٹری سلوت سعید نے کہا کہ فاطمہ فرٹیلائزر اس مشترکہ کوشش میں محکمہ کے ساتھ تعاون کرنے والی پہلی کمپنی ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان مضبوط اشتراک ضروری ہے، تاکہ ماحولیاتی آگاہی بڑھانے، ماحول دوست طریقوں کو فروغ دینے اور آنے والی نسلوں کے لیے موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ اس تعاون کے ممکنہ شعبوں میں فضائی معیار کی بہتری، اسموگ میں کمی، پانی کا تحفظ، کچرے کا مناسب انتظام، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور ماحول دوست اختراعات شامل ہیں۔ کمپنی اور محکمہ ان شعبوں میں آگاہی مہمات، شراکت داریوں اور متعلقہ اداروں کی شرکت کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز رابل سادوزئی نے کہا کہ پائیدار مستقبل کے لیے مختلف شعبوں کا مل کر کام کرنا، عملی اقدامات کرنا اور مشترکہ ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس اشتراک کے ذریعے عوام میں ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ فریم ورک اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے بھی مطابقت رکھتا ہے، خصوصاً ہدف 13، جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، ہدف 12، جو ذمہ دارانہ پیداوار اور استعمال، اور ہدف 17، جو مشترکہ شراکت داریوں کو مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔ اس اقدام کے تحت ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی، تاکہ پنجاب میں ماحول سے متعلق مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر کوششیں ممکن ہوسکیں۔ فاطمہ فرٹیلائزر اور محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں مدد دینا ہے جو ماحولیاتی مسائل سے زیادہ باخبر ہو، وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو اہمیت دے اور مستقبل میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرسکے۔
