ترکیہ نے ہفتے کے روز 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جو یکم نومبر سے نافذ العمل ہوگی۔ اس طرح ترکیہ ان ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو بچوں اور نوعمروں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ سرکاری گزٹ میں یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی جانب سے اپریل میں قانون کی منظوری کے بعد شائع کیا گیا۔ ترک پارلیمنٹ نے یہ قانون 22 اپریل کو منظور کیا تھا، صدر نے 30 اپریل کو اس پر دستخط کیے اور اس کی اشاعت کے چھ ماہ بعد اس کی متعلقہ شقیں نافذ ہوتی ہیں۔ قانون کے تحت سوشل میڈیا فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ نوجوانوں کے تحفظ پر عملدرآمد کے لیے عمر کی تصدیق سمیت تمام ضروری تکنیکی اور انتظامی اقدامات کریں۔ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بچوں میں لت پیدا کرنے کا امکان رکھنے والی کوئی بھی سروس پیش نہیں کی جا سکتی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 15 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے سے روکنا ہوگا اور 15 سے 17 سال کے نوعمروں کے لیے والدین کے کنٹرول کے ٹولز فراہم کرنا ہوں گے۔ قانون کی خلاف ورزی پر انٹرنیٹ بینڈوتھ میں کمی اور جرمانوں جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ آن لائن گیمز کی کمپنیوں پر بھی نئے ضوابط لاگو ہوں گے۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد بچوں کو اسکرین کی لت، نیند کی کمی، غنڈہ گردی اور کھانے پینے کے عوارض جیسے ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ آسٹریلیا سمیت کئی ممالک بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں متعارف کرا چکے ہیں، جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی 10 دسمبر 2025 سے نافذ ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس جیسے دیگر ممالک بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانیہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کا منصوبہ بنا رکھا ہے، جبکہ فرانس میں اس سلسلے کے بل کو اگست میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے آزادیٔ اظہار کے منافی قرار دے کر روک دیا تھا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ترکیہ میں آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کی شکایت کی ہے، جن کا ہدف ایل جی بی ٹی کیو برادریاں، ذرائع ابلاغ اور سیاسی اپوزیشن ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ترکیہ میں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بلاک کیے گئے ہیں۔
