دنیا بھر میں غربت کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں تشویش ناک انکشاف ہوا ہے کہ عالمی کثیرالجہتی غربت انڈیکس کے آغاز کے بعد پہلی بار غربت سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے غربت اور انسانی ترقی سے متعلق تحقیقی ادارے کی جانب سے 12 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 108 ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 1.2 ارب افراد شدید کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں، جو گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں 5 کروڑ 15 لاکھ زیادہ ہیں۔ ان ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 6.3 ارب ہے، جس میں سے 18.9 فیصد افراد غربت کی مختلف صورتوں سے متاثر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غربت کا شکار افراد میں 61 کروڑ 70 لاکھ بچے شامل ہیں، جبکہ 83 فیصد متاثرین دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے غربت میں اضافے کو دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کروڑوں افراد بیک وقت بھوک، تعلیم سے محرومی، صاف پانی کی کمی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کثیرالجہتی غربت کا اندازہ صرف آمدنی کی بنیاد پر نہیں لگایا جاتا، بلکہ صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی سے متعلق دس اشاریوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے، جن میں غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم کے سال، اسکول میں حاضری، رہائش، صفائی، پینے کے پانی، بجلی، کھانا پکانے کے ایندھن اور بنیادی اثاثوں تک رسائی شامل ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق غربت کے اعدادوشمار میں اضافے کی ایک وجہ آبادی میں اضافہ بھی ہے۔ اس سال 108 ممالک میں سے صرف 13 ممالک کے نئے سروے دستیاب تھے، اس لیے تازہ اعدادوشمار کو دنیا کے ہر ملک میں غربت کی صورت حال میں یکساں تبدیلی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے باوجود بعض ممالک نے غربت کم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے 89 ممالک، جن کے لیے وقت کے ساتھ موازنہ کرنے والے اعدادوشمار دستیاب ہیں، ان میں سے 33 ممالک نے 15 سال سے بھی کم عرصے میں اپنا کثیرالجہتی غربت انڈیکس نصف کر لیا۔ چین نے صرف چار سال میں اپنے انڈیکس میں نصف کمی کی، جبکہ ویتنام نے بھی سات سال کے اندر نمایاں پیش رفت کی۔ مصر، نیپال اور تاجکستان میں غربت کی شرح کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد بھی کم ہوئی، تاہم انگولا اور زیمبیا میں غربت کی شرح گھٹنے کے باوجود آبادی بڑھنے سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں غربت کم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن درست پالیسیوں اور بنیادی سہولتوں تک بہتر رسائی کے ذریعے اس پر قابو پانا ممکن ہے۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے صحت، تعلیم، صاف پانی، بجلی اور بہتر رہائشی سہولتوں پر مربوط انداز میں کام کیا جائے۔
