امریکی بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیوں کے دباؤ کے باوجود ایران اپنی تجارت جاری رکھنے اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کے راستوں، بحیرہ کیسپین، روس اور چین کے ساتھ تجارتی روابط کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق ان متبادل راستوں سے ایران کو کچھ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ان کی لاگت زیادہ ہے اور یہ سمندری تجارت کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔ اطلاعات کے مطابق اگست 2026 کے اواخر میں تاجکستان نے بھی ایران سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات وصول کرنا شروع کیں، تاہم ان ترسیلات کی مقدار، نقل و حمل کے طریقے اور تجارتی شرائط کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ پاکستان ایران کے لیے ایک اہم زمینی راستہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جبکہ مارچ 2025 میں ان کی دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 3.13 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔ پاکستان نے اپریل 2026 میں ایران جانے والے سامان کی ترسیل کے لیے چھ زمینی راہداریوں کی منظوری دی، جو کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو بلوچستان کے سرحدی مقامات گبد اور تفتان سے منسلک کرتی ہیں۔ اس انتظام کا مقصد ایران جانے والے تیسرے ممالک کے سامان کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان بارٹر تجارت اور کسٹمز کے تحت بین الاقوامی زمینی نقل و حمل کے طریقہ کار سے متعلق تعاون بھی متبادل تجارتی ذرائع کی ترقی میں اہم ہو سکتا ہے۔ تاہم ان راہداریوں کے عملی استعمال اور ان کے ذریعے ہونے والی تجارت کی موجودہ مقدار کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ روس بھی ایران کی حکمت عملی میں اہم مقام رکھتا ہے۔ دونوں ممالک نے مغربی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی کرنسیوں، یعنی ایرانی ریال اور روسی روبل، میں لین دین بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی شمال جنوب نقل و حمل راہداری بھی اہم ہے، جسے 2000 میں ایران، روس اور بھارت نے متبادل تجارتی راستے کے طور پر شروع کیا تھا۔ تقریباً 7,200 کلومیٹر طویل یہ کثیرالذرائع راہداری سمندری، ریل اور زمینی راستوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت روس سے ایران تک بحیرہ کیسپین کے ذریعے اور وسطی ایشیا کے ممالک سے گزرنے والی ریل لائنوں کے ذریعے سامان منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ایران میں رشت سے آستارا تک ریلوے رابطے کی تکمیل اس نظام کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔ چین بھی ایران کے لیے ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ قازقستان اور ترکمانستان سے گزرنے والے ریل راستے چین کے شہروں ایوو اور شی آن کو ایران سے ملاتے ہیں، جس سے بعض سامان کی ترسیل آبنائے ہرمز پر انحصار کیے بغیر ممکن ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور اس کی جغرافیائی حیثیت بھی علاقائی رابطوں کے لیے اہم ہے۔ تاہم ایران کے لیے سب سے بڑا مسئلہ خام تیل کی برآمدات ہیں، کیونکہ زیادہ مقدار میں تیل منتقل کرنے کے لیے بحری جہاز اور مناسب بندرگاہی سہولتیں ضروری ہیں۔ بحیرہ کیسپین کے راستے تیل کی نقل و حمل بھی محدود گنجائش اور بنیادی ڈھانچے کی مشکلات کا سامنا کرتی ہے، جبکہ آذربائیجان اور قازقستان کے تیل کی پائپ لائنوں کو استعمال کرنے کے امکانات بھی سیاسی اور عملی رکاوٹوں سے متاثر ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کی تیل کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے اور بیرون ملک سمندر میں ذخیرہ کیے گئے تیل پر انحصار بھی بڑھ گیا ہے۔ اس صورت حال سے ایرانی حکومت کی آمدنی پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان، روس، چین اور وسطی ایشیا سے منسلک تجارتی راستے ایران کو کچھ اقتصادی گنجائش فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار نقل و حمل کی لاگت، سرحدی انتظامات، مالیاتی پابندیوں اور علاقائی سیاسی حالات پر ہوگا۔
