کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں تاریخی ریس کورس مسجد کو تجاوزات قرار دے کر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، جبکہ مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ 2021 کے سرکاری سروے میں اسے قانونی طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق 7 اکتوبر 2026 کو مسجد کے بجلی اور پانی کے کنکشن بھی منقطع کر دیے گئے، جبکہ دہلی وقف بورڈ نے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ جمعیت علماء ہند نے حکومتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے نوٹس معطل کرنے اور بنیادی سہولیات بحال کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی مسجد کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا۔ سیاسی ماہرین نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارت میں متعدد مساجد، مدارس اور مزارات کو مسمار کیا گیا اور وقف املاک کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کے خلاف کارروائیاں روکنے اور مسلم عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
