Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /home/u381184473/domains/starasiatv.com/public_html/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
file photo

چین کی نگرانی اور سنسرشپ میں اے آئی کا کردار

چین میں پہلے ہی سخت سنسرشپ اور نگرانی کے نظام موجود تھے، لیکن اب مصنوعی ذہانت (AI) نے ان نظاموں کو مزید تیز اور مؤثر بنا دیا ہے۔ ملک میں ہر روز آن لائن مواد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور عوامی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی ہے، اور AI کے استعمال سے یہ عمل زیادہ تیز اور دقیق ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق AI ٹیکنالوجیز چین کو ہر شہری کے ڈیجیٹل اور حقیقی زندگی کی نگرانی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ یہ نظام نہ صرف حساس مواد کو فلٹر کرتا ہے بلکہ مشین لرننگ اور چہرے کی شناخت کے ذریعے ممکنہ خطرات کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شہری آزادی اور پرائیویسی پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔

AI کے استعمال سے سنسرشپ کا عمل خودکار ہو گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں پوسٹس، ویڈیوز اور آن لائن پیغامات سیکنڈوں میں فلٹر ہو جاتے ہیں۔ اس سے حکومت کے کنٹرول میں اضافہ ہوا ہے اور عوامی مواد کے خلاف کارروائی تیز ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تکنیکی پیش رفت عالمی سطح پر نگرانی کے ماڈلز پر اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ دیگر ممالک بھی AI کی مدد سے اپنے کنٹرول سسٹمز مضبوط کر سکتے ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کے حامیوں نے اس پر شدید تنقید کی ہے، کیونکہ شہری پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی محدود ہو رہی ہے۔

چین میں AI کے ذریعے نگرانی کا بڑھتا ہوا دائرہ یہ واضح کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح حکومتوں کو طاقتور بنا سکتی ہے اور شہری آزادیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

سٹا ر نیوز لائیو

اپنا تبصرہ بھیجیں

14 + 10 =