اہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اجمل زاہد نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی اہلکار کا سرکاری عہدہ بذات خود اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ اس کے خلاف کون سا قانون لاگو ہوگا، اگر کسی معاملے میں پیرا ایکٹ 2024 کے تحت جرم بنتا ہو تو متعلقہ خصوصی قانون کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے، تاہم اگر الزامات عام فوجداری قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتے ہوں تو پاکستان پینل کوڈ سمیت متعلقہ قوانین کے اطلاق کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ پیرا اہلکار کے خلاف ہر جرم کو محض اختیارات کے غلط استعمال کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور تشدد سمیت دیگر سنگین الزامات کو صرف سرکاری عہدے کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پولیس کو متعلقہ معلومات، دستیاب شواہد اور الزامات کی نوعیت کا جائزہ لے کر قابل اطلاق قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار توقیر آصف نے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ معاملے میں مدعی کا مؤقف ریکارڈ کرنے اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ اگر قابل دست اندازی جرم بنتا ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ جسٹس آف پیس نے ایف آئی آر کے فوری اندراج کا حکم نہیں دیا تھا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پیرا اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کیا، نامعلوم مقام پر منتقل کیا، برہنہ کیا، رقم چھینی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، مدعی کے مطابق مبینہ تشدد کی ویڈیو بھی بنائی گئی، درخواست گزار نے اپنے الزامات کے ثبوت میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ مبینہ جسمانی چوٹوں کے حوالے سے متعلقہ مواد ہو سکتا ہے، تاہم یہ دستاویز تنہا ملزم کی شناخت یا اس کی فوجداری ذمہ داری ثابت نہیں کرتی، الزامات کی سچائی اور ملزم کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔فیصلے میں پیرا ایکٹ 2024 کی دفعات 16، 49 اور 53 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ قانون میں مختلف نوعیت کے معاملات کیلئے قانونی طریقہ کار اور شکایات کا نظام موجود ہے، اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق شکایت اور عام فوجداری جرم کے درمیان قانونی فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے
