وزیراعظم کا مجوزہ دورۂ روس، پاکستان کی 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار

اس سلسلے میں پاکستانی سفارت خانے کے ٹریڈ ونگ سے متعلق دو تفصیلی فہرستیں سامنے آئی ہیں، جن میں پاکستان کی 148 کمپنیوں کے 169 نمائندوں کی تفصیلات اور روسی کاروباری اداروں کو بی ٹو بی ملاقاتوں کے لیے مدعو کرنے کی معلومات شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق پاکستانی کمپنیوں کی فہرست میں کاروباری اداروں کے نام، نمائندوں کی ذمہ داریاں، متعلقہ صنعتیں اور برآمدی کارکردگی کی تفصیلات درج ہیں، جبکہ روسی کمپنیوں کی فہرست میں اداروں کے نام، کاروباری شعبے اور متعلقہ رابطہ شخصیات شامل ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورۂ ماسکو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات اور دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بات چیت بھی متوقع ہے، پاکستانی میڈیا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ ایک بڑا کاروباری وفد روس جانے کا امکان ہے اور ماسکو میں مشترکہ بزنس فورم کا پروگرام بھی زیر غور ہے۔اکستانی کمپنیوں کی تصدیق شدہ فہرست میں سب سے زیادہ نمائندگی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت کی ہے، جس کی 59 کمپنیاں شامل ہیں۔ زرعی و غذائی مصنوعات کی 23، سیاحت کی 15، کھیلوں کے سامان کی 13، کٹلری کی 10، معدنیات کی 6، لاجسٹکس کی 5، جراحی آلات کی 5، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 4، آٹوموٹیو، دھاتوں اور پلاسٹک کی صنعتوں کی دو دو، جبکہ ادویات اور کیمیکلز کی ایک ایک کمپنی فہرست کا حصہ ہے۔پاکستانی فہرست میں مرکری پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو محمد یوسف آصف، لاہور کارپٹ مینوفیکچرنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حسن شیخ، فائن گارمنٹس انڈسٹریز کے ڈائریکٹر جنید اکرام، راج بی انڈسٹریز کے ڈائریکٹر مسعود نقی، اشرف انڈسٹریز کے منیجنگ ڈائریکٹر اعجاز کھوکھر اور بلال اپیرل کے چیف ایگزیکٹو محمد بلال احمد کے نام شامل ہیں۔سی شعبے میں کوبیجا انڈسٹریز کے ابرار حسین، ایمان ہوم ٹیکسٹائل کے عبداللہ شاہد، اے جے ایسوسی ایٹس کے جاوید احمد خان اور تائیگا اپیرل کے محمد نعمان عثمان بھی شامل ہیں۔روسی دعوتی فہرست میں معروف گارمنٹس برانڈ گلوریا جینز کی لیزا لم، اوستن کے دیمتری واکولینکو، ایکس فائیو گروپ کے میخائل سفاروف اور آشان کے پیئر کارڈیلی شامل ہیں۔اسی طرح گپفل کی نتالیا وولکووا، کاروان کووروف کے نصرالدین محمودوف، سٹاک مین کے یاکوف پانچینکو، بونی ستروئے کے الیکسی بیریزین، لوگسناب کی اولگا ستیلماخ اور مدینہ کی مدینہ صابر جان کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔روسی کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ کاروباری ملاقاتوں میں پاکستانی تیار ملبوسات، ڈینم، گھریلو ٹیکسٹائل، قالینوں اور چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امکانات زیر بحث آ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں

nineteen − nine =