میپکو ٹیکس کا معاملہ: ایف بی آر کو جبری کارروائی سے روک دیا گیا

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس عابد حسین چٹھہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے میپکو کی درخواست پر سماعت کی، میپکو نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 140(1) کے تحت ایف بی آر کے 5 اگست اور 7 ستمبر کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔میپکو کی جانب سے محمد علی صدیقی، فاطمہ صفیر اور ایس ایم کمال حیدر نقوی ایڈووکیٹس پیش ہوئے، جبکہ ایف بی آر کی جانب سے طارق منظور ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیے۔درخواست گزار کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ میپکو کا ٹیکس تنازع متبادل تنازعات کے حل کے لیے قائم اے ڈی آر کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، تاہم بنیادی تنازع حتمی طور پر حل نہ ہو سکا، لیکن اس کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے میپکو کو 4 ارب 53 کروڑ 59 لاکھ 73 ہزار 266 روپے ٹیکس کے نوٹسز بھجوادیئے گئے جو غیر قانونی ہیں، لہذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 134-A میں مخصوص قانونی طریقہ کار موجود ہے، عدالت نے قرار دیا کہ اگر کمیٹی مقررہ مدت میں تنازع حل نہ کرے تو قانون میں اپیل کا فورم بھی موجود ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو میپکو کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی سے روک دیا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں

11 + one =