حکومت نے حوثیوں کے خلاف پی اے ایف طیاروں کے استعمال کی رپورٹ کو جعلی قرار دے دیا

وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان فضائیہ کے طیاروں کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیے جانے سے متعلق ایک رپورٹ کو جعلی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کردی ہے۔ وزارت نے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی یا استعمال کے بارے میں قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے اور اگر کسی تعیناتی یا کارروائی کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔ یہ تردید اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان فضائیہ کے جنگی طیارے سعودی عرب کے خلاف یمن کے حوثیوں کی کارروائیوں کے جواب میں استعمال کیے جارہے ہیں۔ حکومت نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور واضح کیا کہ ایسی معلومات کے حوالے سے حتمی تفصیلات صرف متعلقہ پاکستانی حکام فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ سرکاری اعلامیے میں اس تعیناتی کا مقصد سعودی عرب کی تیاری، تینوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ بتایا گیا، تاہم کسی مخصوص پاکستانی فضائیہ کے طیارے یا حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ پاکستان کے فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں موجود ہیں، تاہم اس بیان میں بھی پی اے ایف کے طیاروں کے حوثیوں کے خلاف استعمال کی تصدیق نہیں کی گئی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق سعودی فوج یمن میں جاری لڑائی کے دوران براہ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے جبکہ پاکستانی اور ترک افواج معاون کردار ادا کررہی ہیں، جس میں پاکستان کی جانب سے نگرانی بھی شامل ہے۔ اس دوران یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں، جبکہ سعودی حکام نے بعض حملوں میں اہم شہری اور ہوابازی کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات دی ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ حالیہ صورتحال میں تینوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اجتماعی دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کی کوششیں تیز کردی ہیں، تاہم پاکستان فضائیہ کے طیاروں کو حوثیوں کے خلاف استعمال کیے جانے کی رپورٹ کو پاکستانی وزارت اطلاعات نے مسترد کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

1 × 4 =