زارا لارسن نے ملالہ فنڈ کے لیے خصوصی اسموتھی متعارف کرا دی، لڑکیوں کی تعلیم کے مشن کی حمایت

سویڈن سے تعلق رکھنے والی معروف گلوکارہ زارا لارسن نے نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی کے لڑکیوں کی تعلیم کے مشن کی حمایت کے لیے ایک خصوصی اسموتھی متعارف کرا دی ہے۔ اس انوکھے اشتراک کو مزاحیہ انداز میں ہالی وُڈ فلم ایوینجرز: اینڈ گیم جیسے بڑے کراس اوور سے تشبیہ دی جا رہی ہے، کیونکہ اس میں ایک سویڈش گلوکارہ، ایک پاکستانی نوبیل انعام یافتہ شخصیت اور رنگ برنگی اسموتھیز ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ زارا لارسن نے یہ مشروب کیلی فورنیا میں قائم نامیاتی اشیا کے معروف اسٹور ایریوون کے اشتراک سے “مڈ نائٹ سن” کے نام سے پیش کیا ہے، اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ملالہ فنڈ کو عطیہ کی جائے گی تاکہ دنیا بھر کی لڑکیوں کو بارہ سال کی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے اس کے مشن کو تقویت ملے۔ گلابی اور جامنی رنگ کا یہ مشروب نامیاتی اجزا کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے، جن میں ناریل کا دودھ، بلیو بیریز، کیلا، دودھ سے حاصل ہونے والی وہے پروٹین، اسٹرابیریز، انناس، آم، ناریل کا پانی، گاجر کا جوس اور ونیلا شامل ہیں۔ “مڈ نائٹ سن” گلوکارہ کے اسی نام کے البم سے متاثر ہے، جو ان کا پانچواں اسٹوڈیو البم ہے اور ستمبر 2025 میں ریلیز ہوا تھا۔ یہ البم سویڈن کی ان گرمیوں کی یاد دلاتا ہے جن میں سورج رات گئے تک غروب نہیں ہوتا۔ یہ اسموتھی ایریوون کی بیشتر شاخوں پر، اسٹور کی موبائل ایپ پر، اور نیویارک میں اوبر ایٹس اور پوسٹ میٹس کے ذریعے دستیاب ہے۔ ملالہ فنڈ کی بنیاد ملالہ یوسفزئی اور ان کے والد نے مشترکہ طور پر رکھی تھی، اور اس ادارے نے دنیا کے پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، جن میں ملالہ کا آبائی صوبہ خیبر پختونخوا بھی شامل ہے۔ پاکستان میں فنڈ کے حالیہ فلاحی اقدامات کے تحت سندھ اور گلگت بلتستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو 9 کروڑ 50 لاکھ روپے کی گرانٹس دی گئی ہیں، جبکہ مقامی شراکت داروں کے اشتراک سے خیبر پختونخوا کے 10 اضلاع میں طلبہ کو مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ملالہ فنڈ نے رواں سال جنوری میں غزہ، سوڈان اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں لڑکیوں کی تعلیم اور ہنگامی امداد کے لیے تین لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا، جس میں سے ایک ایک لاکھ ڈالر تینوں علاقوں میں سرگرم مقامی تنظیموں کے لیے مختص کیے گئے۔ اس سے پہلے ستمبر 2025 میں فنڈ نے مصر میں پناہ لینے والے غزہ کے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ایک لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ ملالہ نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی بحالی کے لیے تین ملین ڈالر دینے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے، جہاں طالبان کی قیادت والی حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں

14 + eight =