جلی ہوئی یا حد سے زیادہ پکائی گئی غذا کے بارے میں ماہرین ایک ایسے کیمیائی مادے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو زیادہ درجہ حرارت پر بعض کھانوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ اسے اےکریلامائیڈ کہا جاتا ہے اور یہ عموماً اس وقت بنتا ہے جب آلو، روٹی، بسکٹ، ناشتے کے اناج اور کافی جیسی نشاستہ رکھنے والی غذاؤں کو تقریباً 120 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر پکایا، تلا یا بھونا جائے۔ اس عمل کے دوران غذا میں موجود شکر اور امینو ایسڈ اسپرَیجین کے درمیان کیمیائی ردعمل ہوتا ہے جسے میلرڈ ردعمل کہا جاتا ہے، یہی ردعمل کھانے کو سنہرا یا بھورا رنگ اور خاص ذائقہ دیتا ہے، لیکن اسی دوران اےکریلامائیڈ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ 2002 میں سویڈن کے محققین نے پہلی مرتبہ مختلف غذاؤں میں اےکریلامائیڈ کی موجودگی پر توجہ مبذول کرائی تھی، جس کے بعد اس کے ممکنہ صحت کے اثرات پر وسیع تحقیق ہوئی۔ جانوروں پر ہونے والی تجرباتی تحقیق میں اےکریلامائیڈ کو سرطان پیدا کرنے والا اور اعصابی نظام کے لیے زہریلا مادہ قرار دیا گیا ہے، تاہم انسانوں میں اس کے ذریعے سرطان کے خطرے کے بارے میں سائنسی شواہد اب تک قطعی نہیں ہیں۔ بعض مطالعات میں زیادہ غذائی اےکریلامائیڈ اور مخصوص اقسام کے سرطان، خاص طور پر خواتین میں رحم کی اندرونی جھلی اور بیضہ دانی کے سرطان، کے درمیان تعلق کی نشاندہی ہوئی، لیکن دیگر تحقیقات میں ایسا تعلق نہیں ملا یا شواہد کمزور رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ روزانہ کتنی مقدار میں اےکریلامائیڈ استعمال کررہے ہیں، اس کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں، کیونکہ بہت سی تحقیقات افراد کی اپنی بتائی ہوئی خوراک پر انحصار کرتی ہیں۔ خون اور پیشاب میں حیاتیاتی علامات کے ذریعے اس مادے کی مقدار جانچنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ زیادہ قابلِ اعتماد نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ انسانوں میں سرطان کے بارے میں حتمی نتیجہ نہ ہونے کے باوجود سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ اےکریلامائیڈ اعصابی نظام کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ جانوروں پر ہونے والی تحقیق نے طویل عرصے تک اس کے استعمال اور اعصابی تنزلی سے متعلق بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلق بھی ظاہر کیا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی صحت اور غذائی ادارے خوراک میں اےکریلامائیڈ کی مقدار کم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گھر میں بھی اس مادے کی تشکیل کم کی جاسکتی ہے، مثلاً آلو کے قتلے تلنے سے پہلے تقریباً 10 منٹ گرم پانی میں بھگونے سے اےکریلامائیڈ بننے کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے۔ خوراک کی صنعت بھی تیاری کے طریقوں میں تبدیلی، خام اجزا کے انتخاب اور زرعی تحقیق کے ذریعے اس مادے کی مقدار کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ گندم اور دیگر اناج میں موجود اسپرَیجین کی مقدار کم کرنے کے لیے جینیاتی تحقیق بھی کی جارہی ہے تاکہ زیادہ درجہ حرارت پر پکانے کے دوران اےکریلامائیڈ کی تشکیل کم ہو۔ ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اےکریلامائیڈ صرف جلے ہوئے کھانے میں نہیں بلکہ عام طور پر بھنی، تلی یا بیک کی گئی بعض غذاؤں میں بھی مختلف مقدار میں موجود ہوسکتا ہے، اس لیے ہر قسم کی بھوری یا سنہری غذا کو خطرناک سمجھنا درست نہیں۔ تاہم کھانے کو ضرورت سے زیادہ جلا دینے سے گریز کرنا اور خاص طور پر بہت زیادہ سیاہ یا جلے ہوئے حصوں کو کم کھانا ایک محتاط طریقہ ہوسکتا ہے۔ موجودہ سائنسی شواہد اس بات کی قطعی تصدیق نہیں کرتے کہ معمول کی غذائی مقدار میں اےکریلامائیڈ انسانوں میں سرطان کا سبب بنتا ہے، لیکن اس کے ممکنہ اعصابی اور دیگر صحت کے اثرات کے باعث تحقیق جاری ہے۔ اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانا مکمل طور پر جلا دینے کے بجائے اسے مناسب حد تک پکایا جائے، اور جلی ہوئی سطحوں کو ضرورت پڑنے پر ہٹا دیا جائے۔
