وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کی قیادت کیلئے لکی مروت پہنچ گئے

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے کے لیے اتوار 4 اکتوبر 2026 کو لکی مروت پہنچ گئے، جہاں گنڈی چوک پر پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد مارچ میں شرکت کے لیے جمع ہونا شروع ہوگئی۔ ڈان کے مطابق سہیل آفریدی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے اور مارچ کا آغاز جنوبی اضلاع سے آنے والے قافلوں کے ساتھ کیا جانا ہے۔ پی ٹی آئی نے یہ مارچ پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل سے رہائی کے مطالبے کے لیے مقرر کیا ہے، جبکہ جماعت نے اسے اپنی سیاسی جدوجہد کا تسلسل قرار دیا ہے۔ مارچ کے لیے گنڈی چوک کے اطراف سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں پولیس کی بھاری نفری، بکتر بند گاڑیاں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی تعینات کیے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں بھی ایک قافلہ لکی مروت روانہ ہوا، جہاں انہوں نے کارکنوں کو پرامن رہنے، نظم و ضبط برقرار رکھنے اور پولیس کے ساتھ تصادم یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔ سہیل آفریدی کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے مارچ میں پہنچنے پر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کے گورنر نے بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مارچ کی قیادت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی کہا کہ سرکاری وسائل کا سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے تاہم مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔ یہ مارچ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روزہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے طے شدہ مسودے میں تبدیلیاں کرکے بات چیت کے عمل کو متاثر کیا، جبکہ پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کی تجاویز آئینی اور قانونی دائرے میں تھیں اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے معاملے میں صوبے کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق جنوبی اضلاع، جن میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان اور بنوں شامل ہیں، کے کارکن لکی مروت سے قافلے میں شامل ہوں گے۔ مارچ کا قافلہ 5 اکتوبر کو کرک اور کوہاٹ کی جانب بڑھے گا، 6 اکتوبر کو پشاور پہنچنے کا منصوبہ ہے، جبکہ 7 اور 8 اکتوبر کو مزید اضلاع کے کارکن اس میں شامل ہوں گے۔ پی ٹی آئی نے بعد کے مرحلے میں خیبر کے علاقے خیرآباد میں بڑے اجتماع کے بعد آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مارچ سے قبل خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کے باعث دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت بعض علاقوں میں مخصوص شاہراہوں پر افراد اور گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ہنگو اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں مختلف مدت کے لیے کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو پرامن اور قانونی رکھنے کی کوشش کرے گی۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں مارچ اور حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ دونوں جانب کے بیانات اور حالیہ ناکام مذاکرات نے ملک میں سیاسی تناؤ کو نمایاں کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

three × 4 =