پاکستانی اداکارہ ژالے سرحدی نے جنسی تشدد اور معاشرے میں موجود متاثرہ افراد کو قصوروار ٹھہرانے کے رویے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے سخت سزاؤں اور لڑکوں کی بہتر تربیت پر زور دیا ہے۔ اداکارہ نے اتوار کو انسٹاگرام کی ایک اسٹوری میں لکھا کہ جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی عمر یا جنس کچھ بھی ہو، اکثر الزام متاثرہ شخص ہی پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ جرم کرنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مختلف بہانے تلاش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ سلسلہ آخر کب اور کیسے ختم ہوگا۔ ژالے سرحدی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے ساتھ نئی نسل کی بہتر تربیت کو ضروری قرار دیا اور خاص طور پر کہا کہ توجہ صرف لڑکیوں کی حفاظت اور رویوں پر نہیں بلکہ لڑکوں کی تربیت پر بھی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق بچوں کی پرورش کے دوران احترام، حدود اور دوسروں کی رضامندی کو سمجھنے کی تربیت اہم ہے، کیونکہ جنسی تشدد کی روک تھام کی ذمہ داری صرف ممکنہ متاثرین پر ڈالنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ معاشرے میں ایسے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے جو طاقت کے غلط استعمال، جارحیت اور خواتین پر اختیار کو معمول سمجھنے کا سبب بنتے ہیں۔ ژالے سرحدی ماضی میں بھی خواتین، بچوں اور جانوروں کے حقوق سے متعلق مختلف معاملات پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں، جبکہ اس سے قبل انہوں نے خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے اور اخلاقی نگرانی کے رویے کے خلاف بھی آواز اٹھائی تھی۔ اداکارہ کی تازہ پوسٹ نے ایک بار پھر جنسی تشدد، متاثرہ افراد کو موردِ الزام ٹھہرانے اور لڑکوں کی تربیت جیسے موضوعات پر بحث کو نمایاں کردیا ہے، تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں کسی مخصوص واقعے یا فرد کا نام نہیں لیا اور ان کے تبصرے عمومی سماجی مسئلے کے تناظر میں تھے۔
