خیبر پختونخواہ دہشتگردی کی زد میں ہے اور صوبے کا وزیراعلی کنٹینر پر چڑھا ہے، 13 سال سے خیبر پختونخواہ کی قسمت میں دھرنے،جلسے،ریلیاں اور لانگ مارچ ہی ہیں، جب صوبے میں امن و امان اور روزگار نہیں ہوگا تو وہاں کے لوگ امن اور روزگار کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کریں گے،جو حکومت اپنے ہی لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی اسکو حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہی سیل آفریدی واحد وزیراعلی ہیں جو اپنے صوبے میں ہی لاؤ لشکر کے ساتھ مارچ کر رہے ہیں فیڈریشن کے خلاف ہرزہ سرائی کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، سرکاری وسائل کو جتھوں کی سیاست کے لیے استعمال کرنا پی ٹی آئی کا پرانا وتیرہ ہے، سہیل آفریدی نے صوبے میں قیام امن پر دہشتگردوں کو تحفظ دینے پر ترجیح دی ہے، خیبر پختونخواہ اس وقت دہشتگردوں،منشیات فروشوں اور سمگلروں کے رحم و کرم پر ہے، خیبر پختونخواہ حکومت خود صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے،خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو کسی صورت بھی دہشتگردوں اور جتھوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا،
