پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے دروازے کھلے ہیں، رانا ثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گورنرراج اور ایمرجنسی دونوں تقریباً ایک ہی ہیں، آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کا اختیار استعمال کرسکے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر اکتوبر میں بحث ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔راناثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں لیکن یہ غیرمشروط ہوں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ پی ٹی آئی شرط رکھے کہ پہلے گورنرراج ختم کریں، مذاکرات میں یہ بات نہیں مانیں گے کہ موجودہ اقدامات واپس لیے جائیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں جو مقدمات درج ہیں ان میں گرفتاری ہونی چاہیے، اسلام آبادکی نئی جیل میں سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اکٹھے نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ایک جیل میں ددنوں ہوں بھی تو دونوں اکٹھے نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت موجودہ سیٹ اپ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی ویلفئیر کے لیے بھی کام کرے گی، ہماری پہلی ترجیح خیبرپختونخواہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم پرانی دہشت گردی کی بات نہیں کر رہے ہیں ، ہم اس دہشت گردی کی بات کر رہے ہیں جو بھارت اس وقت ہمارے ملک میں پھیلا رہا ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت سندور2جاری رکھے ہوئے ہے، صوبائی حکومت کو بارہا دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرنے کا کہا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا نہ کرنے پر ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے تو کہا تھا وہ 20لاکھ لوگوں کے ساتھ آئیں گے، ہوسکتا ہے اس وقت بھی سہیل آفریدی 20لاکھ لوگوں میں موجود ہوں یا ان کی گنتی کر رہے ہوں۔وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی کابینہ کے چند لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لینے کا گورنرخیبرپختونخوا کا بیان سنا ہے، سہیل آفریدی کو اپنے خلاف دائر مقدمات میں ضمانت کروانی چاہیے اور ان کا سامنا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

5 × 5 =