مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ اہم آئینی تبدیلیوں پر پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے جبکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا نیوز کے پروگرام ’دی اینکرمین‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ججوں کی ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے کو شفاف انداز میں حل کرنے اور متعلقہ ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات میں ایسا اقدام ناگزیر ہو تو آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے، تاہم دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل حل کرنے کے لیے طویل المدتی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف کارروائی، سرکاری افسران کے اثاثوں کی جانچ، معدنی وسائل کی لیزوں میں شفافیت اور مقامی صنعت کے فروغ پر بھی زور دیا۔ کیپٹن (ر) صفدر نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اصولی اختلافِ رائے کو غداری نہیں سمجھنا چاہیے اور ہزارہ کے عوام کو متعلقہ کونسل میں نمائندگی ملنی چاہیے۔
