اپنے بیان میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور دنیا بھر کی ہندو برادری کو دیوالی کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ہندو برادری قومی زندگی کا لازمی حصہ ہے، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، دیوالی بُرائی پر اچھائی، تاریکی پر روشنی اور مایوسی پر امید کی فتح کی علامت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دیوالی کا پیغام محبت، سمجھ بوجھ، ہمدردی اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال کا درس دیتا ہے، ہندو برادری نے تعلیم، صحت، کاروبار، عوامی خدمت اور سماجی بہبود سمیت مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کا ملک پر یکساں حق ہے، قائداعظم نے ایسے پاکستان کا تصور دیا جہاں مذہب اور عقیدہ مساوی شہریت کی راہ میں رکاوٹ نہ ہوں، ہر شہری کو آزادانہ مذہب پر عمل، باوقار زندگی اور قانون کے تحت یکساں تحفظ ملنا چاہیے، مساوی شہریت کا وعدہ ایک مقدس قومی عہد ہے۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاسی روایت مساوی حقوق کے تحفظ کا تقاضا کرتی ہے، کسی پاکستانی کو مذہب کی بنیاد پر اپنی وطن سے وابستگی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، پاکستان ہر شہری کا گھر، اس کی آزادیاں اس کا حق اور مستقبل سنوارنا اس کا اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ دیوالی پاکستانیوں کے درمیان اتحاد کے رشتوں کو مضبوط بنانے کا موقع ہے، ہمارا تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ عظیم طاقت ہے، تعصب اور امتیاز کو مسترد کر کے زیادہ منصفانہ اور ہمدرد معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔صدر مملکت نے دیوالی منانے والے تمام خاندانوں کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ دیوالی کی روشنیاں گھروں میں خوشیاں، مشکلات سے دوچار افراد کیلئے سکون اور نئے سال کیلئے امید لائیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ آج ہندوؤں کے مذہبی تہوار دیوالی کے پُر مسرت موقع پر دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں مقیم ہندو برادری کو دِلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ تہوار نفرت، عدم برداشت اور مایوسی کے اندھیروں پر روشنی کے غالب ہونے کی یاد دہانی کراتا ہے، روشنیوں کے اس تہوار کا خوش کُن پیغام درحقیقت انسانی اور سماجی کردار میں پُر امن بقائے باہمی کی ترویج ہے، تابندہ، خوشحال اور امید افزا مستقبل کا یقین دیوالی کی خوش آئند خاصیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہندو برادری ہمارے قومی تشخص کا قابلِ قدر حصہ ہے، ملک کی سماجی، ثقافتی، اقتصادی ترقی میں ہندو برادری کی خدمات لائقِ تحسین ہیں، معاشرے میں متنوع ثقافتی اور مذہبی روایات قابل قدر معاشرتی اثاثہ ہیں، پاکستان اپنی مذہبی و ثقافتی تنوع پر فخر کرتا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے مذہبی، شہری حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے، حکومت بلا تفریق مذہب و عقیدہ اور رنگ و نسل تمام شہریوں کے حقوق، وقار اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے، مذہبی ہم آہنگی، باہمی اتحاد اور احترام کا فروغ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پُرامن، جامع اور خوشحال قوم کی تعمیر ہمارے مشترکہ عزم میں مضمر ہے، متنوع تہذیب و ثقافتوں کا امین اور پُر امن بقائے باہمی پر کاربند معاشرہ ہی ہر شہری کو یکساں تعلیمی، معاشی مواقعوں کی فراہمی کا ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ آئیے، اس خصوصی موقع پر ہم بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، اخوت و بھائی چارے کو مزید مستحکم کرنے اور امن، رواداری اور باہمی افہام و تفہیم پر مبنی روشن مستقبل کے لیے مشترکہ کاوشوں کا تجدیدِ عزم کریں۔